-وگو! میری بات سن لو ! کیونکہ میں نہیں جانتا ، شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی نہ مل سکوں ۔تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی، اور اس شہر کی حرمت ہے ۔سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاو ¿ں تلے روند دی گئی، جاہلیت کے خون بھی ختم کردئے گئے ، اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کررہا ہوں ، وہ ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کے بیٹے کا خون ہے …. یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ ان ہی ایام میں قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کردیا ….اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے ۔ اب یہ سارے کا سارا سود ختم ہے۔ہاں عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو ، کیونکہ تم نے انہیں اﷲ کی امانت کے ساتھ لیا ہے ، اور اﷲ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو آنے نہ دیں جو تمہیں گوارا نہیں ، اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مارسکتے ہو ، لیکن سخت مار نہ مارنا ، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاو۔اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ، اور وہ ہے اﷲ کی کتاب ۔“(مسلم )”لوگو ! یاد رکھو! میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، لہٰذااپنے رب کی عبادت کرنا، پانچ وقت کی نماز پڑھنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، اور خوشی خوشی اپنے مال کی زکاة دینا ، اپنے پروردگار کے گھر کا حج کرنا اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا، ایسا کروگے تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوگے۔“( ابن ماجہ، ابن عساکر ، رحمة للعالمین1/263)”اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے، تو تم لوگ کیا کہوگے ؟ صحابہ ثنے کہا : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچادیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرمادیا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا : ” اے اﷲ ! گواہ رہ “۔( مسلم )